Times of Pakistan

شدید گرمی اور پیاس بجھانے کے لیے پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی خاموش خطرہ؟

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

ہیٹ ویو ہو، شدید گرمی اور تپتی دوپہر ہو یا نارمل موسم پیاس بجھانے کے لیے ہم پانی پلاسٹک کی بوتلوں میں ہی ساتھ رکھتے ہیں۔

شدید ہیٹ ویو ہویا تپتی دوپہر یا عام سے دن ہوں، پیاس بجھانے کے لیے جو پانی ہم پلاسٹک کی بوتلوں میں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں، کیا وہ واقعی ہماری زندگی بچا رہا ہے یا خاموشی سے اسے خطرے میں ڈال رہا ہے؟

کیا کبھی ہم نے رک کر سوچا کہ جس پلاسٹک کی بوتل میں یہ پانی ہفتوں یا مہینوں بند رہتا ہے، وہ ہماری صحت کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہا ہے؟ بظاہر پیاس بجھانے والا یہ شفاف پانی، کہیں اپنے اندر کوئی خاموش خطرہ تو نہیں چھپائے ہوئے؟

عالمی اداروں کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ بوتل بند پانی ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا جیسا اشتہارات میں دکھایا جاتا ہے۔ امریکی ادارے ’ایف ڈی اے’ کی خود کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ بہت سی کمپنیاں پہاڑی چشموں کا نہیں بلکہ ہمارے گھروں میں آنے والے نلکے کا پانی ہی بوتلوں میں بند کرتی ہیں۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے جدید ترین فلٹرز، ریورس اسموسس اور اوزون گیس کی مدد سے جراثیم اور بو سے پاک کر دیتی ہیں۔ یہ پانی جراثیم سے تو پاک ہو جاتا ہے، لیکن اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اسے پلاسٹک کی بوتل میں بند کر کے دھوپ اور گرمی میں سپلائی کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

یہیں سے ’مائیکرو پلاسٹک‘ کا مسئلہ بھی جنم لیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی رپورٹس کے مطابق، جب پانی طویل عرصے تک پلاسٹک کے اندر رہتا ہے یا اسے ہیٹ ملتی ہے، تو پلاسٹک کے انتہائی باریک اور خوردبینی ذرات ٹوٹ کر پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ہم جب یہ پانی پیتے ہیں تو یہ ذرات ہمارے جسم کے اندر چلے جاتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی یہ ریسرچ ان ممالک کے معیار کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے جہاں پانی کو بہت جدید طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے اور پلاسٹک کی بوتلیں دھوپ میں نہیں رکھی ہوتیں۔ پاکستان میں جہاں گرمی اور ہیٹ ویو میں یہ بوتلیں تپتی دھوپ میں پڑی رہتی ہیں، وہاں پلاسٹک کے پگھلنے اور پانی میں شامل ہونے کی رفتار دگنی ہو جاتی ہے۔

اگرچہ سائنسدان اب بھی اس بات پر گہری تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ ذرات ہمارے جسمانی نظام کو کتنے سالوں میں اور کتنا نقصان پہنچاتے ہیں، لیکن ایک عام فہم بات یہ ہے کہ پلاسٹک بہرحال ایک مصنوعی کیمیکل ہے اور اس کا انسانی جسم میں جانا کسی بھی طرح صحت کے لیے اچھّا نہیں ہو سکتا۔

ایک عام آدمی کے لیے یہ صرف صحت کا نہیں بلکہ معاشی اور ماحولیاتی مسئلہ بھی ہے۔ ہم نلکے کے پانی سے سینکڑوں گنا مہنگا پانی اس امید پر خریدتے ہیں کہ یہ ہمیں بیماریوں سے بچائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بوتلیں جہاں ہماری جیب پر بھاری پڑتی ہیں، وہی ہمارے ماحول کو بھی زہر آلود کر رہی ہیں۔ سڑکوں پر بکھرا پلاسٹک کا یہ کچرا صدیوں تک ختم نہیں ہوتا اور گھوم پھر کر آلودگی کی صورت میں دوبارہ ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

تو پھر اس کا حل کیا ہے؟ حل بہت سادہ اور ہماری پرانی روایات میں چھپا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں تھوڑی سی تبدیلی لانی ہوگی۔

کوشش کریں کہ گھر سے نکلتے وقت شیشے یا سٹین لیس سٹیل کی اپنی بوتل ساتھ رکھیں۔ گھر کا ابلا ہوا یا اچھے فلٹر سے صاف کیا ہوا پانی استعمال کریں۔ یہ نہ صرف آپ کی جیب پر بوجھ کم کرے گا، بلکہ آپ کو مائیکرو پلاسٹک کے اس خاموش خطرے سے بھی محفوظ رکھے گا۔ یاد رکھیے، صحت ایک نعمت ہے اور اس کی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا ایک چھوٹا سا قدم ہماری زندگی میں بڑی بہتری لا سکتا ہے۔

Read Entire Article