ARTICLE AD BOX
صدر ٹرمپ دیگر صدور کی طرح امریکا کو طویل جنگوں میں پھنسانے والی پالیسی اختیار نہیں کریں گے: امریکی نائب صدر
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے طویل جنگ میں تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ صدر ٹرمپ ایران جنگ کو عراق اور افغانستان جیسی طویل اور مہنگی جنگوں کی شکل اختیار نہیں کرنے دیں گے۔
امریکی اخبار یو ایس اے ٹو ڈے سے خصوصی گفتگو میں امریکی نائب صدر جے ڈی ویس نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع میں خود کو طویل عرصہ نہیں الجھائے گا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ پُر اعتماد ہیں کہ ایک سال بعد دنیا امریکا ایران جنگ دنیا کے لیے پرانا موضوع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ عراق اور افغانستان کی طویل جنگوں جیسی نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ جے ڈی وینس، عراق جنگ کے سابق فوجی اور بیرون ملک امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے محتاط مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ دیگر صدور کی طرح امریکا کو طویل جنگوں میں پھنسانے والی پالیسی اختیار نہیں کریں گے۔
واضح رہے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے سے خطے میں چھڑنے والی جنگ کو اس ہفتے 100 دن مکمل ہوچکے ہیں۔
اپریل میں پاکستان کی کوششوں سے فریقین کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اس جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
صدر ٹرمپ متعدد بار یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن یہ مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملوں کے باعث جنگ بندی کمزور ہونے کے خدشات پیدا نظر آنا شروع ہوگئے تھے۔
جے ڈی وینس نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو امریکا جواب میں فوجی کارروائیاں تیز کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک امریکا اپنی بنیادی پالیسی، یعنی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر توجہ مرکوز رکھے گا، تب تک یہ تنازع ایک طویل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا۔
مذاکرات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو صدر کے پاس دیگر ذرائع بھی موجود ہیں لیکن جب تک ہمارا ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، یہ جنگ طویل نہیں ہوگی‘۔
جے ڈی وینس کے یہ ریمارکس ان کی نئی کتاب کی اشاعت کے موقع پر سامنے آئے۔ 16 جون کو شائع ہونے والی یہ کتاب ان کی معروف یادداشت کا تسلسل ہے، جس میں انہوں نے مذہبی سفر، سیاست اور عوامی زندگی سے متعلق اپنے خیالات بیان کیے ہیں۔
.png)
6 hours ago
2




English (US) ·