ARTICLE AD BOX
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں امریکی حکام کو کھلاڑیوں کے ساتھ مجرموں کی طرح برتاؤ کرتے دیکھا جا سکتا ہے
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کے کیے امریکا آنے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے ساتھ ایئرپورٹ حکام کے تضحیک آمیز رویے کے مزید واقعات بھی سامنے آگئے ہیں۔ سینیگال اور ازبکستان کی ٹیموں کے ساتھ ایئرپورٹ پر ہونے والے سلوک کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد فٹبال شائقین کی جانب سے امریکی حکام پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
فیفا ورلڈ کپ کے لیے آمد کے موقع پر امریکا آنے والی افریقی اور ایشیائی ٹیموں کے ساتھ ناروا سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔
سینیگال کی ٹیم جب سان انٹونیو ایئرپورٹ پر پہنچی تو کھلاڑیوں کو اپنے بیگز اور سامان ٹرمینل کے اندر لے جانے کے بجائے ایئرپورٹ کے رن وے پر ہی کھڑا رکھا گیا اور ان کے بیگز کی سخت تلاشی لی گئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں سینیگال کے کھلاڑیوں کے ساتھ مجرموں کی طرح برتاؤ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سیکیورٹی حکام نے کھلاڑیوں کے جوتوں کی چیکنگ کی، ساتھ ہی ان کے ہاتھ کھڑے کروا کر جامہ تلاشی بھی لی، جسے فٹبال فینز نے تذلیل آمیز رویہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ازبکستان کی فٹبال ٹیم کو بھی نیویارک پہنچنے پر سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی حکام نے ازبک ٹیم کے ارکان کی تلاشی کے لیے منشیات سونگھنے والے کتوں اور میٹل ڈیٹیکٹرز کا استعمال کیا۔ ایک ویڈیو میں سیکیورٹی اہلکار کو اُزبک وفد کے ایک رکن کو ’بیگوں سے دور رہیں‘ کہتے بھی سنا جا سکتا ہے، جسے سوشل میڈیا صارفین نے غیر ضروری اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔
اس سے قبل عراقی وفد کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے بھی اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔
عراقی ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ایمن حسین کو شکاگو ایئرپورٹ پر تقریباً سات گھنٹے تک روکے رکھا گیا۔ اس دوران ان کا موبائل فون بھی چیک کیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔
اس کے برعکس عراقی ٹیم کے آفیشل فوٹوگرافر طلال صلاح کو دس گھنٹے سے زائد وقت تک روکنے کے بعد امریکا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا اور انہیں واپس بھیج دیا گیا۔
ان واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد فٹبال شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
متعدد صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کے لیے آنے والے بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ ایسے برتاؤ کیا گیا جیسے وہ کوئی مجرم ہوں۔
ان واقعات کے بعد شائقین نے فیفا پر بھی خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیفا کو ان معاملات پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ ایونٹ میں شریک تمام ٹیموں کو یکساں احترام اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
.png)
1 hour ago
3





English (US) ·